اسلام آباد : بھارت میں قید رہنے والے فرانسیسی مصنف اور فلم ڈائریکٹر نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب شائع کر کے بھارتی بربریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
32 سالہ فرانسیسی مصنف اور فلم ڈائریکٹر ویلنٹین ہینو ( Hénault Valentin ) نے15 جنوری 2026 کو بھارت میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب شائع کی جس کاعنوان "I Had an Indian Dream: In the Hell of Gorakhpur ہے ۔ وہ کتاب میں 2023 میں بھارت کے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہیں جو جلد ہی ایک ڈراو¿نے خواب میں بدل گیا جب دلت حقوق کے ایک احتجاج میں شرکت کے بعد انہیں کئی ماہ جیل میں گزارنے پڑے۔ فلم ڈائریکٹر ویلنٹین ہینو کی کتاب آن لائن فرانسسی زبان مین دستیاب ہے۔
ویلنٹین ہینو 10 اگست 2023 کو بھارت پہنچے تاکہ دلت خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر ایک دستاویزی فلم بنا سکیں۔ انہوں نے اتر پردیش پہنچنے سے پہلے بہار اور جھارکھنڈ کا سفر کیا۔10 اکتوبر 2023 کو انہوں نے دلتوں کے لیے زمین کے حقوق کے مطالبے پر کسان خواتین کی قیادت میں ہونے والے ”امبیڈکر پیپلز مارچ“ میں شرکت کی۔ ایک مقرر نے اسٹیج سے بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا نام لیا جس کے بعد انہیںمقامی انٹیلی جنس اہلکاروں نے گھیر لیا۔ ان پر احتجاج کو غیر قانونی طور پر فنڈ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ پولیس نے ان پر ویزا شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر گرفتار کیا اور انہیں گورکھپور جیل بھیج دیا گیا۔ انہیں ایک ایسی کوٹھڑی میں منتقل کیا گیا جو ذہنی طور پر غیر مستحکم قیدیوں کے لیے مخصوص تھی۔ انہیں سات ماہ تک شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ مئی 2024 میں بھارت سے روانہ ہوئے۔ فرانسیسی مصنف نے جیل کے حالات کے بارے میں لکھا کہ انہیں 300 افراد کے ساتھ ایک بیرک میں رکھا گیا جہاں نہ سونے کی جگہ تھی نہ کروٹ لینے کی گنجائش۔انہوں نے کہاکہ میں نے جیل کے اندر لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا جس نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے مطابق جیل کے اندر بھی ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم موجود تھی۔ مسلمانوں کو الگ بیرک میں رکھا جاتا تھا۔ اعلیٰ ذات کے قیدی نسبتاً بہتر مرکزی حصوں میں رہتے تھے جبکہ نچلی ذات کے افراد کو بیت الخلا کے قریب اندھیرے حصوں میں رکھا جاتا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ کئی قیدیوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنے عرصے تک جیل میں رہیں گے کیونکہ ان کی سماعت یا عدالت میں پیشی کی کوئی تاریخ مقرر نہیں تھی۔
بھارت میں Act Foreigners کو اکثر غیر ملکیوں کو احتجاج میں شرکت یا سماجی مسائل کی فلم بندی کرنے پر گرفتار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بھارت ایک ایسے قلعے میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں گودی میڈیا کے صحافی اور حکومتی بیانیہ دہرانے والے تو موجیں کرتے ہیں، مگر آزاد محققین، صحافی اور کارکن شدید نگرانی کا سامنا کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں بھارت میں بے گناہ غیر ملکیوں کے خلاف الزامات اور گرفتاریوں کے نمایاں واقعات یہ ہیں:
ویلنٹین ہینوکو2023میں دلت حقوق کے احتجاج میں شرکت کے بعد ویزا خلاف ورزی اور احتجاج کی مالی معاونت کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ ایک اورفرانسیسی صحافی وینیسا دوگناک کو 2024میں منفی رپورٹنگ کے الزام پر حکومت کی جانب سے اوسی آئی حیثیت منسوخ کرنے کے اقدام کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور کیاگیا۔ اگست 2022 میںامریکی صحافی اور وائس نیوز کے دستاویزی پروڈیوسر انگد سنگھ کو بغیر کسی وضاحت کے دہلی ایئرپورٹ سے بھارت میں داخلے سے روک کر فوری طور پر واپس بھیج دیا گیا۔اکتوبر 2022 میں آسام میںسات جرمن اور تین سویڈش شہریوں کو سیاحتی ویزے پر مذہبی تبلیغ اور تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں کے الزامات پر حراست میں لے کر ملک بدر کیا گیا۔ مذہبی اجتماع میں شرکت کے بعد2020میں تبلیغی جماعت کے غیر ملکی ارکان کے خلاف وبائی قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے کئی بعد میں عدالتوں نے خارج کر دیے۔ 1986میںبرطانوی کارکن ڈیوڈ برگمین جو بھوپال سانحے کے بعد امدادی کام اور دستاویزی فلم بنارہے تھے، انہیںفارنرز ایکٹ اورقومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا۔2001میں برطانوی امدادی کارکن ایان اسٹل مین کو اس ٹیکسی میں مبینہ طور پر منشیات ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا جسے انہوں نے کرایہ پر لیا تھا۔ بعد میں انسانی حقوق کے گروپس نے اسے انصاف کی سنگین غلطی قرار دیا۔ اسکاٹش سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو2017 میں بھارت کے دورے کے دوران دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا جوتا حال گرفتارہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے بغیر مقدمہ طویل حراست پر تشویش ظاہر کی ہے۔
صحافتی آزادی کے اداروں کے مطابق بھارت میں غیر ملکی نامہ نگاروں کو کشمیر، احتجاج یا اقلیتوں کے حقوق جیسے حساس موضوعات کی رپورٹنگ پر ویزا میں تاخیر، اجازت ناموں سے انکار یا ملک بدری جیسے مسائل کا سامنا بڑھتا جا رہا ہے۔بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے آزاد تحقیق اور رپورٹنگ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اوریہ ملک غیر ملکی آزاد صحافیوں اور محققین کے لیے ایک جہنم بن چکا ہے۔