سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ضلع رام بن میں ایک کشمیری نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گائے کی نام نہاد حفاظت کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا زہر اب مقبوضہ علاقے میں بھی پھیل رہا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد کے نتیجے میں ایک 25 سالہ تنویر احمد چوپان جاں بحق ہو گیا جس کا ایک گائے اور دو بچھڑوں کو لے جانے کے دوران تعاقب کیا گیا اور اس پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ انہوں نے واقعہ کو انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔میرواعظ نے متنبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکامی کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، جس کے لیے حکام ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے واقعات سے خطے کے سماجی تانے بانے کو خطرہ ہے اور اس سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دریں اثنامیر واعظ نے آج سری نگر کے علاقے نوہٹہ کے چندپورہ میں آتشزدگی سے متاثرہ مقام کا دورہ کیا۔ علاقے میں گزشتہ رات آتشزدگی کے ہولناک واقعے میں آٹھ رہائشی مکان خاکستر ہو گئے تھے۔انہوںنے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیااور ان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
میر واعظ نے دارالخیر میرواعظ منزل کو متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔