عمر عبداللہ کا گاندربل جعلی مقابلے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

 

غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے گاندربل میں بھارتی فوجیوں کے متنازعہ انکائونٹر کی شفاف اور بروقت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جا سکے۔
عمر عبداللہ نے یہ بیان ایک متاثرہ خاندان کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی میں شہید ہونے والا شخص بے گناہ تھا اور اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ وسطیٰ کشمیر کے ضلع گاندربل میں ایک مقابلے کے دوران ایک "عسکریت پسند”مارا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیری خاندان کے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں زور دیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدار اور فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ تحقیقات میں تاخیر یا شفافیت کی کمی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ادھر گاندربل کے علاقے چونٹوالیوار سے تعلق رکھنے والے مقتول نوجوان کے بھائی اعجاز احمد نے میڈیا کو بتایاہے کہ ان کا بھائی رشید احمد مغل منگل کی صبح گھر سے نکلا تھا مگر واپس نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رشید کوبھارتی فوجیوں نے عسکریت پسندقراردیکر ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیاہے۔اعجاز نے بتایاکہ رشید بالکل بے گنا اور بے قصور تھا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیاگیاہے۔

جدید تر اس سے پرانی