سرینگر:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “ (این آئی اے) کی ایک عدالت نے ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور کے رہائشی تین نوجوانوں کو تقریباً چھ برس بعد ایک جعلی مقدمے میں بری کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عدالت نے کہا کہ استغاثہ اسلحے کی مبینہ برآمدگی اور ایک ممنوعہ تنظیم سے نوجوانوں کے تعلق کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔بری کیے جانے والوں میں وسیم ارشاد ،معراج الدین وانی اور معراج الدین گرجری شامل ہیں ۔یہ تینوں سوپور کے رہائشی ہیں۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کپواڑہ منجیت سنگھ منہاس، جو این آئی اے کے نامزد جج بھی ہیں ، نے کہا کہ شبہ چاہے کتنا ہی مضبوط ہو، ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ انہوںنے کہا کہ استغاثہ کے کیس میں تضادات تھے اور اس میں معتبر ثبوت کی کمی تھی۔
بھارتی فورسز نے ان تینوں کو ستمبر 2020 میں ضلع کپواڑہ کے علاقے ڈرگمولہ میں ایک ناکے پر تلاشی کے دوران گرفتار کیا تھا۔
گرفتاری کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں رکھا گیا تھا۔ عدالت نے تینوں کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہ ہونے کی صورت میں ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔
.jpg)