مسیحی تنظیم کا بھارتی حکومت سے ایف سی آر اے بل مکمل طورپرواپس لینے کا مطالبہ

 

نئی دہلی: آل انڈیا کیتھولک یونین (اے آئی سی یو) نے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کے ان دفعات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے جو حکام کو رجسٹرڈ تنظیموں کے اثاثوں کو ضبط کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دیتے ہیں، بھارتی حکومت سے اسے مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔
اے آئی سی یو کے صدر انجینئر الیاس واز نے ایک بیان میں کہا کہ حکومتی ہٹ دھرمی اور سیاسی دغابازی کے باعث مسیحی برادری اس وقت تک مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک بھارتی حکومت فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مکمل طور پر واپس نہیں لے لیتی۔انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح، دوٹوک اور تحریری یقین دہانی کرائے کہ آئندہ قانون سازی، انتظامی کارروائی یا کسی اور طریقے سے کوئی کوشش نہیں کی جائے گی جس میں گرجاگھروںکے اثاثوں اور اداروں کو غصب کرنے یا مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہو جس کی ضمانت بھارتی آئین میں دی گئی ہے۔اے آئی سی یو کے صدر نے کہاکہ یہ اثاثے اور ادارے کئی دہائیوں اور صدیوں میں کمیونٹی نے حکومتی فنڈز کے بغیر اپنے پیسوں اور دنیا بھر کے ساتھی مسیحیوں کی مدد سے بنائے ہیں اور ان کا استعمال انسان دوستی، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اورروحانی مقاصد کو فروغ دینا ہے۔ مسیحی تنظیم کے مطابق مذکورہ بل کو صرف روکنے یا موخر کرنے کا مقصد بظاہر کیرالہ اور دیگر ریاستوں میں انتخابات ہیں جس سے کمیونٹی کو نہ تو راحت ملے گی اور نہ ہی اطمینان ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی