سرینگر : ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھرمیں انٹرنیٹ کی بندش کے آدھے سے زیادہ واقعات بھارت میں جبکہ اس کے 47 فیصد صرف مقبوضہ جموں وکشمیر میں پیش آئے ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں صرف 2018 میں134 مرتبہ میں انٹرنیٹ کی بندش ریکارڈ کی گئی جبکہ-17 2016 کے دوران 100 سے زائدمرتبہ یہ سروس بند کی گئی جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2012 اور 2017 کے درمیان بھارت میں ریکارڈ کی گئی انٹرنیٹ بندشوں کےتقریباً 47 فیصد واقعات صرف مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہوئے اور مواصلاتی بندشوں کا سب سے زیادہ نشانہ اسی خطے کو بنایاگیا۔تاریخ کی سب سے طویل انٹرنیٹ بندشوں میں سے ایک جو 203 دنوں پر مشتمل تھی، 2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعدجس نے پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا تھا،مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہوئی۔ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2012 اور 2017 کے درمیان بھارت کی مجموعی انٹرنیٹ بندش کا دورانیہ 16,000 گھنٹے سے زیادہ تھاجس سے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کا اقتصادی نقصان ہوا۔ محقق جان رائڈزک کے مطابق زیادہ تر بندشیں تہواروں اور جلوسوں جیسے پرامن اجتماعی تقریبات کے دوران عائد کی گئیں۔رپورٹ میں ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ جہاں حکام امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کو ضروری قرار دیتے ہیں، وہیں زیادہ تر معاملات میں ان کا استعمال مظاہروں کو دبانے اور معلومات کی آزادانہ ترسیل کو روکنے کے لیے کیاگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی بلیک آو¿ٹ کا بار بار استعمال اختلاف رائے کو دبانے اور میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کی ایک منظم کوشش کی عکاسی کرتا ہے جس سے خطے میں ڈیجیٹل حقوق اور آزادی اظہار پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی اداروںسے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ انٹرنیٹ کی طویل بندش سے نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں معمولات زندگی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ لوگوں میں احساس محرومی بھی بڑھ جاتاہے۔