ہنٹا وائرس: چوہوں سے پھیلنے والی ایک جان لیوا اور خطرناک بیماری کی حقیقت

 


ہنٹا وائرس دراصل ایسے خطرناک وائرسوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو بنیادی طور پر چوہوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ بیماری عام نزلہ زکام یا دیگر وبائی امراض کی طرح ایک انسان سے دوسرے انسان میں آسانی سے نہیں پھیلتی، بلکہ اس کا پھیلاؤ متاثرہ چوہوں کے فضلے، پیشاب یا ان کے رہنے کی جگہوں سے ہوتا ہے۔ جب انسان ایسی جگہوں کی صفائی کرتے ہیں یا وہاں موجود گرد و غبار میں سانس لیتے ہیں جہاں یہ وائرس موجود ہوتا ہے، تو مائیکروسکوپک وائرل ذرات ہوا کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا بھر میں اس کے کیسز نسبتاً کم ہی رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن اس کا شرحِ اموات پچاس فیصد تک جا سکتا ہے، جو اسے طبی دنیا کا ایک انتہائی مہلک وائرس بناتا ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے ہنٹا وائرس انسانوں پر دو الگ الگ طریقوں سے حملہ آور ہوتا ہے۔ امریکہ اور اس کے قریبی علاقوں میں یہ وائرس پھیپھڑوں کے نظام کو نشانہ بناتا ہے جسے طبی زبان میں 'ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم' کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں شدید بخار، تھکن، اور پٹھوں کا درد شامل ہوتا ہے، لیکن چند ہی دنوں میں وائرس پھیپھڑوں کے خلیات کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ ان میں پانی بھر جاتا ہے اور مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف یورپ اور ایشیا کے خطوں میں یہ وائرس انسانی گردوں اور خون کی شریانوں پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
فی الحال دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا، علاج یا مستقل ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ اور بقا کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ مریض کو کتنی جلدی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں مصنوعی سانس کی مشین یا دیگر آلات کے ذریعے اس کے جسمانی نظام کو سہارا دیا جاتا ہے۔ اس جان لیوا وائرس سے محفوظ رہنے کا واحد اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسانی آبادیوں کو چوہوں سے پاک رکھا جائے۔ ایسے بند گھروں، گوداموں یا تہہ خانوں کی صفائی کرتے وقت جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، کبھی بھی خشک جھاڑو نہیں دینا چاہیے، بلکہ جراثیم کش مائع یا بلیچ کا چھڑکاؤ کر کے ماسک اور دستانوں کے استعمال کے ساتھ صفائی کرنی چاہیے تاکہ وائرس کے ذرات ہوا میں اڑ کر سانس کے راستے جسم میں داخل نہ ہو سکیں۔


جدید تر اس سے پرانی