ہمارے بارے میںہمارے ساتھ شامل ہوںممبر لاگ انرابطہپرائیویسی پالیسیقواعد و ضوابطڈسکلیمر
تازہ ترین

(منصف چوہدری سلطنت عمان سے)

تحریر: Ijaz Chaudhry

 


سلطنت عمان ایک بہت پیارا  ملک ہے  جب بھی کسی حکومتی نمائندے یا سرکاری افسر سے ملاقات ہوتی ہےسب سے پہلے  خیر خیریت پوچھتےہیں ، ہاتھ ملاتے، کوئی پھوں پھاں نہیں، کوئی پروٹوکول نہیں، کوئی شور شرابا نہیں، کوئی بڑا پن اور دکھاوا نہیں.ان کی سادگی  عاجزی و انکساری اور ملنساری دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے وہ چہرے گھومنے لگتے ہیں  جنہیں اپنے وطن میں ہم عوام خود اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں جن کے پروٹوکول کے لئے روٹ لگائے جاتے ہیں، وہ جب آتے ہیں تو پالشی اور مالشی کچھ اس انداز سے قصیدہ گوئی کرتے ہیں کہ

"رستم کا جگر زیرِ کفن کانپ رہا ہے

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے"

مریض تڑپتے رہتے ہیں، بچے رکشے و ٹیکسی میں جنم لے لیتے ہیں، لیکن جب تک صاحب نہیں گزرتے تب تک سڑکیں بند رہتی ہیں۔ کوئی مرتا ہے تو مر جائے، فلایٹس رک جاتی ہیں، ڈھول باجے شہنایاں بجائی جاتی ہیں، دس ہوٹر آگے اور بیس پیچھے، عوام تنگ اور بیچارے پولیس والے مجبوری کے مارے بولتے نہیں لیکن چپکے چپکے اتنی گندی گالیاں دیتے ہیں سن کر ممبی والے بھی شرما جائیں پہلے میں سمجھ رہا تھا کہ ہمارے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذمہ دار کوئی دوسرا ہے لیکن  ان قوموں کی ترقی کے راز دیکھ کر رفتہ رفتہ سمجھ آئی کہ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جن سے کوئی وزیر یا مشیر ہاتھ ملا لے تو خوشی کے مارے ایک مہینہ تک اپنے ہاتھ نہیں دھوتے کہ خوشبو دور ہو جائے گی اور جس کسی کو چوروں اُچکوں کیساتھ تصویر یا سلفی لینے کی سعادت حاصل ہو جائے تو ہم اسے دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتے ہیں.

(منصف چوہدری سلطنت عمان سے)