کتنے ہی در دیکھے کہ کوئی مجھے میرا پتہ دے پر ہر ایک بس اپنا ہی تعارف مجھ میں اُنڈیلنے پر مصر رہا۔رضوان خالد چوھدری




 کتنے ہی در دیکھے کہ کوئی مجھے میرا پتہ دے پر ہر ایک بس اپنا ہی تعارف مجھ میں اُنڈیلنے پر مصر رہا۔ پھر تنہائی کے ایک لمحے میں وسوسے بُننے سے اُکتا کر میں نے اپنے اندر موجود شخص سے سوال کیا تو وہ بھی جواب دینے کی بجائے سوالات کا ایک سلسلہ کا ایک سلسلہ شروع کرتے ہوئے بولا، کیا تُو جانتا ہے کَل تُو خاک تھا۔ میں نے کہا ہاں میرا جسم تو زمین کے نامیاتی مرکبات کا مجموعہ ہی ہے پر یہ جسم میں کب ہوں، وہ خوش ہو کر بولا کہ یہ جان کر اچھا لگا کہ تجھے یہ احساس بھی کہ خاکی جسم میں منتقلی سے پہلے بھی تیری کوئی شکل ہو گی، یہ احساس فطری ہے لیکن فی الوقت ہم احساس کی بجائے سامنے نظر آتے حقائق پر بات کر لیتے ہیں اور حقائق یہی بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب تُو نہیں تھا۔ 

یہ بات نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں تھی تبھی میں نے مان لیا تو وہ بولا لیکن تجھے جان لینا چاہیے کہ تُو بس بظاہر نہیں تھا لیکن پھر ظاہر میں بھی تُو ایسے وجُود پزیر ہُوا کہ ابتدا میں خُود سے بھی بے خبر تھا۔ 

میں نے اُسکی بات پر غور کیا اور جواب دیا کہ ہاں میں بے علم بے عقل ہی پیدا ہُوا تھا۔ 

وہ اس بات پر ہنسا اور بولا چل تُو یہی کہہ لے، حالانکہ تُو نہ کبھی بے عقل تھا, نہ بے علم, بس تجھے خُود کو جاننے میں وقت بھی لگنا تھا, تڑپ بھی درکار تھی اور محنت بھی چاہیے تھی۔ پھر وہ بات جاری رکھتے ہُوئے بولا کیا وقت نے تیری کم علمی کم نہ کر دی۔ 

میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں اس میں کچھ صداقت ہے پر میں تو آج بھی کم علم ہُوں۔ 

وہ بولا یہ کم علمی بھی تیری ہی چوائس ہے، کیا تُو غور نہیں کرتا کہ تیری یاداشت سے اب تک جتنی بھی گرد چھٹی ہے اُسکا بندوبست وقت نے ہی کیا ہے ورنہ تُجھ میں تڑپ ہی کہاں تھی اور کونسی محنت تُو نے اس ضمن میں خُود سے کی۔ 

میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو جانا کہ جو بھی میں نے جانا ہے واقعی وہ جاننے میں میرا کوئی کردار نہیں، 

میرے ساتھ تو سب کُچھ گویا بس ایک خاص ترتیب سے ہوتا چلا گیا اور جہاں سے بھی میں گُزرا میرا کچھ نہ کچھ جُہل اُن راستوں کی مشکلات نے کم ہی کیا اور کچھ راستے میں لگے سائن بورڈز نے چاٹ لیا۔

اُس نے میرے ذہن میں چلتے خیالات پڑھے اور بولا یعنی وقت بہرحال اب تک تیرا مددگار رہا ہے۔  

میں نے مانا کہ ہاں یہ سچ ہے, میرے لیے راستے بنائے گئے۔ 

وہ بولا, کِس نے بنائے اور بقول تیرے تُو تھا ہی نہیں پھر تیرا ہونا کِس نے مُمکن بنایا۔ 

میں نے جواب دیا کہ ابھی تو تُم نے بتایا کہ وقت میرے لیے یہ سب کرتا رہا۔ 

وہ بولا چل تو نے یہ تو جان لیا کہ تُو اکیلا کبھی نہیں رہا, وقت تیرے لیے کُچھ نہ کُچھ بُنتا رہا اور اُس نے جو بھی بُنا, تُو نے اُسکے کُچھ بُننے کے ردّعمل میں جیسا بھی عمل کیا ہر لمحہ تجھے جاننے کو کُچھ نہ کچھ نیا دیتا رہا۔ 

کچھ سوچنے پر میں نے مان لیا کہ ہاں میں کبھی بھی اکیلا نہیں تھا اور میرے لیے وقت کے بچھائے ہر بندوبست نے مجھ پر پڑی کم علمی کی کُچھ نہ کچھ گرد ضرور ہٹائی ہے۔

اُس نے پھر پُوچھا اچھا یہ بتاو کہ یہ وقت کون ہے۔

میں اس سوال سے جنجھلا گیا اور بولا یہ کیا سوال ہُوا، تُمہیں یہ پُوچھنے کی بجائے کہ وقت کون ہے یہ پُوچھنا چاہیے کہ وقت کیا ہے, کیونکہ کون تو کسی فرد یا شخصیت کے لیے بہتر لفظ ہے, جبکہ وقت تو بس وقت ہے کوئی شخصیت نہیں۔ 

وہ مسکراتے ہوئے بولا کہ گویا ایک بے جان چیز زندگی اور علم سے بھرپُور بندوبست تخلیق کر کے تُمہارے سامنے بچھاتی رہی۔

میں نے جواب دیا کہ یہ سارے بندوبست تو پہلے سے موجود تھے بس میرا ان سے سامنا کروایا جاتا رہا۔ 

وہ بولا چل تُو یُوں کہہ لے, لیکن کیا ایک بے جان چیز تُجھے ایسے ہر بندوبست کے سامنے لانے پر قادِر تھی۔ 

میں نے سوچتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے وقت پھر کوئی شخصیت رکھتا ہے۔

اُس نے مجھے مزید اُلجھانے کے لیے جواب دیا کہ نہیں یہ کوئی شخصیت نہیں رکھتا. جیسے تیرے ہونے سے سایہ بنتا ہے ایسے ہی وقت تو بس اپنے خالِق کے ہونے کا ایک اظہار ہے۔ 

میں نے سوال کیا کہ کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ وقت کا خالق ہی میرا خالِق ہے اور اُسی خالِق نے میرے سامنے ہمیشہ الگ الگ سیچوئیشنز بچھائی ہیں۔ 

وہ بولا یہ تو خود تُو نے اب سے چند لمحات پہلے کہا تھا کہ تُجھے بنی بنائی سیچوئیشنز کے فقط سامنے کیا گیا۔

میں نے کہا ہاں میں وہی کہہ رہا ہوں لیکن کیا ایسا میرا خالِق کرتا رہا, 

لیکن کیوں۔

اُس نے پھر وہی پہلے والا جواب دیا اور بولا تُو نے خُود ہی تو کہا تھا کہ تیرے سامنے بچھائے ہر بندوبست سے تُو نے کُچھ سیکھا ہے۔

میں سوچنے لگا کہ واقعی میں ایسی کئی سیچوئیشنز سے گُزرا ہُوں جنہوں نے مجھے سخت تکالیف دیں، بعض میں خُود میں نے دوسروں کو تکالیف دیں. کیا اُس سب کا ذمّہ دار پھر میرا خُدا ہے۔ 

اُسنے میرے خیالات جان لیے، مسکراتے ہوئے وہ پھر گویا ہوا کہ اپنے سوال کا جواب تو خُود تُو نے یہ کہہ کر دے دیا کہ تُو نے بعض سچُوئیشنز میں دوسروں کو تکالیف دیں. یعنی تُو نے خُود دیں, یا  کسی سیچوئیشن پر تیرے مخصوص ردّعمل سے تجھے تکلیف ہُوئی، خُدا نے تو تجھے اُن سیچُوئیشنز کے سامنے کیا تھا۔

میرا اگلا سوال فطری تھا: لیکِن کیوں

وہ بولا تُو نے خُود ہی تو کہا تھا کہ ہر سیچوئیشن سے تیرے علم میں اضافہ ہُوا۔ کیا کسی کو تکلیف دے کر تُو نے کچھ سیکھا یا تکلیف ملنے سے تُو نے کچھ جانا۔

میں نے کہا ہاں میں نے ہمیشہ کُچھ نہ کُچھ جانا۔ تکلیف جھیل کر بھی تکلیف دے کر بھی۔

اب وہ مُدعے کی طرف آتے ہوئے بولا کہ بالآخر تُو نے مان لیا ہے کہ تیرا خالِق بس تیرے اُس جاننے کے پیچھے تھا.  تیرا کسی کو تکلیف دینا یا تجھے تکلیف ملنا تیرے ہی عمل اور ردّعمل کے باعث تھا۔

میں نے پھر سوال کیا کہ میرا جاننا تو میرا ہی ایک احساس ہے جو میرے اندر ہونے والے کسی تھاٹ پراسس کا نتیجہ ہے۔

اُس نے فوراً سوال کیا کہ کیا اس تھاٹ پراسس کے نتیجے پر تیرا کنٹرول ہے۔

 نہیں، شاید نہیں، میں بولا تو میرے جواب میں کنفیوثین دیکھ کر اُسنے پھر پُوچھا، جب جب تُو کسی کو تکلیف دیتا ہے تو کیا تُجھے احساس ہوتا ہے کہ تُو غلط کر رہا ہے۔

میں نے ایمانداری سے اقرار کرتے ہوئے کہا ہاں لیکن اکثر اس احساس کی سُنتا ہی نہیں۔

وہ بولا، یہ تیرا معاملہ ہے تُو سُنے یا نہ سُنے لیکن وہ احساس تیری رہنُمائی تو کرتا ہے نا۔

میں نے اثبات میں سر ہلایا تو بولا گویا وہ احساس تیری شخصیت کا حصہ نہیں ہے کیونکہ تیری شخصیت تو بعض اوقات پُوری قُوّت سے وہ کرنا چاہتی ہے جو یہ احساس کرنے سے روکتا ہے اور بعض اوقات تیری شخصیت پُوری قُوّت سے وہ نہیں کرنا چاہتی جو یہ احساس کرنے کو کہتا ہے۔ 

میں نے مان لیا کہ ہاں یہ احساس میرے اندر ہمیشہ رہنے کے باوجود کوئی خارجی چیز ہے۔

وہ خوش ہو کر بولا؛

 چل تُو نے یہ تو مان لیا کہ تُو اکیلا نہیں ہے تیرے اندر ہی کسی احساس کی شکل میں ہمیشہ کوئی شخصیت موجود رہی ہے۔

ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہی نہیں تھا تبھی میں نے اقرار کیا کہ ہاں یہ تو سامنے کی بات ہے۔

وہ بولا اس سے قطعٔ نظر کہ تُو کیا کرتا ہے تجھے یہ تو علم ہوتا ہی ہوگا کہ صحیح یا غلط کیا ہے۔

میں نے پھر ہاں کہا تو اُس نے پُوچھا کون بتاتا ہے۔

میں نے بے اختیارانہ کہا وہی احساس بتاتا ہے۔ 

وہ بولا یعنی کسی سیچوئیشن میں جب تُو اپنی شخصیت کی قُوّت سے مغلُوب ہو کر کسی کو تکلیف دیتا ہے تب بھی یہ احساس تُجھے بتاتا ہوگا کہ تُو غلط کرنے جا رہا ہے۔

میں نے جواب دیا ہاں لیکن تُم نے کہا کہ میرے آگے وہ سیچُوئیشنز وقت بچھاتا ہے پھر میری کیا غلطی۔

اُس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا؛ 

وقت نے سیچُوئیشن بچھائی، تیرے اندر موجُود شخصیت نے اُس سیچوئیشن میں تیری یہ بتا کر ہمیشہ رہنُمائی کر دی کہ تیرا کردار کیا ہونا چاہیے پھر جو بھی فیصلہ تُو نے کیا اُسکی ذمّہ داری کِس پر ہُوئی۔

یہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ تھا کہ اسکی ذمہ داری مُجھ پر ہی ہونی چاہیے لیکن میں خاموش رہا۔ 

اُس نے پھر اپنا سوال دہرایا اور بولا کیا کبھی تُو نے اپنے اندر موجُود اُس خارجی شخصیت کا مشورہ کسی سیچُوئیشن میں مانا بھی ہے۔

میں نے فوراً کہا کہ بہت بار مانتا ہُوں۔

وہ بولا پھر کیسا محسُوس ہوتا ہے۔

میں نے مان لیا کہ سکُون محسُوس ہوتا ہے۔

جانتے ہو کیوں۔؟ اُسنے پُوچھا

میں نے نفی میں سرہلایا تو وہ بولا کیونکہ وہی شخصیت تیری خالِق ہے، جب تیرے عمل اور اُسکی خواہش میں فرق مٹنے لگتا ہے تو اُس لمحے تُو اپنی تخلیق کے مقصد کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ تیرا شعور اپنی شخصیت کو بس تب سے جانتا ہے جب سے تُو نے اپنے جسمانی وجود کو پہچاننا شروع کیا، لیکن تیرا لاشعور پچھلے جہانوں میں تیری موجودگی سے بھی واقف ہے تیرے مقصدِ تخلیق سے بھی اور تیرے اُس علم کا عکس بھی اس میں موجود ہے جو تجھے ابھی بے نقاب کرنا ہے، تبھی جب جب تُو اُس مذکورہ خارجی احساس سے مطابقت اختیار کرتا ہے تیرا لاشعور تجھے اُس کیفیت سے آشنا کر دیتا یے جسے تیرا شعور سکُون کہتا ہے۔ 

اسکی بات پر کچھ غور کے بعد میں نے سوال کیا کہ اگر وہی شخصیت میری خالِق ہے جو ایک احساس کی شکل میں میرے ہی اندر موجُود ہے تو پھر مجھے بیرونی علم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 

وہ بولا کیا تُو علم اپنی آزاد مرضی سے حاصل کرتا ہے۔ 

میں نے کہا کہ میری شخصیت بہرحال علم کی پیاسی ہے۔ 

وہ بولا ٹھیک ہے لیکِن کیا یہ صرف تیری شخصیت ہی کی پیاس ہے، کیا تُجھ میں موجود وہ احساس تیری شخصیت کی یہ پیاس نہیں بڑھاتا۔ 

میں نے کہا میری شخصیت کی علم کی پیاس کی وجُوہات یقیناََ الگ ہیں لیکن ہاں وہ احساس میرے تجسّس کو ہوا دیتا ہے۔

اب وہ خوش ہوا اور بولا جانتا ہے کیوں۔

میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ بولا کیونکہ جیسے جیسے تیرا علم بڑھتا جائے گا تیری شخصیت اور اُس احساس نامی شخصیت کے درمیان تضاد کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ 

میں اُسکا مُدعا سمجھ گیا تھا لیکن مزید وضاحت کے لیے بولا میں سمجھا نہیں۔

وہ بولا تُو آج زیادہ علم رکھتا ہے یا دس سال پہلے زیادہ علم کا حامل تھا۔

میں نے کہا یقیناً آج،

اُس نے پھر پوچھا؛ تیری شخصیت آج اُس احساس نامی شخصیت کی بات زیادہ مانتی ہے  یا دس سال پہلے زیادہ مانا کرتی تھی۔

میں نے پھر وہی جواب دیا تو وہ پھر بولا؛ تُو نے ایک بات پر ابھی بھی غور نہیں کیا۔ تُو کبھی بھی اکیلا نہیں تھا تیری شخصیت سے مُختلف ایک خارجی احساس ہمیشہ تیرے ہمراہ رہا۔

میں نے کہا ہاں یہ ایک خُوش کُن حقیقت ہے میں نے کبھی غور نہیں کیا تھا لیکن آج محسُوس ہُوا میرے اندر کوئی موجود ہے جس نے ہمیشہ رہنمائی کی اپنی سی کوشش کی۔ لیکن میں اُس سے زیادہ بامقصد مُکالمہ کرنا چاہتا ہُوں، اُسے مزید جاننا چاہتا ہُوں۔

وہ بولا دیکھو میں نے شروع میں ایک بات کی تھی کہ تُو نہ کبھی بے عقل تھا نہ بے علم بس تجھے خُود کو جاننے میں وقت بھی لگنا تھا تڑپ بھی درکار تھی اور محنت بھی چاہیے تھی۔ ذرا سوچو کہ ابھی تک اُس احساس کے بارے میں جو تُمہارے اندر ہے تُم نے اپنی تڑپ اور کوشش سے خُود جانا ہے یا وقت اُسے سامنے لایا ہے۔ وقت اور وہ احساس ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں یعنی تُمہارے یہ جاننے میں بھی کہ تُمہارے اندر رہنُما موجود ہے تُمہاری کوشش اور تڑپ شامل نہیں بلکہ اسی احساس کی کوشش شامل ہے۔

 تم جاننے کی رفتار اور مقدار بڑھانا چاہتے ہو تو اپنے اندر موجُود اُس احساس سے مکالمے کی تڑپ پیدا کرو، تمہاری تڑپ اور کوشش اگلا کام کرے گی، 

اب تُم کم از کم یہ تو جانتے ہی ہو کہ تُمہیں اپنے خالق کی جُستجُو میں در در کی خاک نہیں چھاننی وہ تُمہارے اندر ہی موجود ہے۔ 

مجھے کیا کوشش کرنی ہے یہ میرے لیے ابھی بھی معمّہ ہی تھا، میں نے اس متعلق سوال کیا تو وہ بولا، 

خودشناسی اور خالق شناسی کے لیے ہر ریڈنگ ہر لسننگ ہر تجربے اور ہر مشاہدے پر برین سٹارمنگ سے بہتر اور کوئی کوشش نہیں ۔۔۔ محمد رضوان خالد چوھدری

جدید تر اس سے پرانی